قومی اسمبلی میں وزارت قومی صحت کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار نے بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز پر سنگین تشویش پیدا کر دی ہے۔ جنوری 2025 سے جون 2026 تک ڈیڑھ سال کے دوران ملک بھر میں 3,900 بچے ایچ آئی وی سے متاثر پائے گئے اور ان کا اندراج ہوا، جو اوسطاً روزانہ سات سے زیادہ بچوں کے برابر ہے۔ یہ اعداد و شمار رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی کے سوال کے جواب میں ایوان میں پیش کیے گئے، جن کا جواب وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے دیا۔
اہم نکات
- جنوری 2025 سے جون 2026 تک 18 ماہ میں 3,900 بچے ایچ آئی وی سے متاثر رجسٹرڈ ہوئے۔
- سب سے زیادہ متاثرہ بچے سندھ میں 1,915 اور پنجاب میں 1,765 رپورٹ ہوئے۔
- خیبر پختونخوا میں 139، بلوچستان میں 46، اسلام آباد میں 30، آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں ایک بچہ متاثر پایا گیا۔
- ملک میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کا تخمینہ 4 لاکھ 17 ہزار 214 ہے، جن میں سے 92 ہزار 148 رجسٹرڈ اور 67 ہزار 878 علاج حاصل کر رہے ہیں۔
- سالانہ نئے انفیکشنز 2010 میں تقریباً 16 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 48 ہزار تک پہنچ گئے، یعنی تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار
وزارت صحت کی جانب سے ایوان کو بتایا گیا کہ بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز کا اندراج ایک قومی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جس سے مریضوں کی نگرانی اور علاج کی صورتحال پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اس نظام سے منسلک ہیں، جبکہ پنجاب کا اپنا نظام ابھی اس میں ضم کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ ایچ آئی وی کی مزید منتقلی روکنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اقدامات کر رہی ہیں۔ ملک میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کے مراکز کی تعداد بڑھ کر 113 ہو گئی ہے، جن میں رواں برس سندھ میں 15 نئے مراکز بھی شامل ہیں۔ اسی طرح ایچ آئی وی کی جانچ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2020 میں 37 ہزار 944 سے بڑھ کر 2025 میں 3 لاکھ 74 ہزار 126 تک پہنچ گئی۔
صوبوں کی صورتحال
صوبہ وار اعداد و شمار کے مطابق سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 1,915 بچے ایچ آئی وی سے متاثر پائے گئے، جبکہ پنجاب 1,765 کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر 3,680 کیسز رپورٹ ہوئے، جو کل تعداد کا بڑا حصہ ہیں۔
خیبر پختونخوا میں 139، بلوچستان میں 46 اور اسلام آباد میں 30 بچے متاثر پائے گئے، جبکہ آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں ایک کیس رپورٹ ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جانچ کی سہولتوں کی کمی کے باعث بعض علاقوں میں اصل تعداد رپورٹ شدہ اعداد سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

ملک میں بنیادی مراکز صحت پر جانچ اور علاج کی سہولتوں کی توسیع کو ماہرین اہم قرار دے رہے ہیں۔
بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجوہات
طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کی بڑی وجوہات میں آلودہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر محفوظ انجیکشن، مناسب جانچ کے بغیر خون کی منتقلی اور طبی آلات کی ناقص جراثیم کشی شامل ہیں۔ انفیکشن سے بچاؤ کے کمزور انتظامات بھی اس پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق متاثرہ ماں سے حمل، پیدائش اور دودھ پلانے کے دوران بھی بچہ وائرس سے متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے حاملہ خواتین کی بروقت جانچ اور علاج کو انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر کیسز مناسب احتیاط اور بروقت جانچ سے روکے جا سکتے ہیں۔
مجموعی صورتحال اور علاج کا فرق
ملک میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تخمینی تعداد 4 لاکھ 17 ہزار 214 تک پہنچ چکی ہے، لیکن صرف 92 ہزار 148 افراد رجسٹرڈ ہیں اور 67 ہزار 878 مریض اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی حاصل کر رہے ہیں۔ اس فرق کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ افراد کی بڑی تعداد ابھی نظام سے باہر ہے، جس سے جانچ اور آگاہی کی مہمات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
وزارت صحت کے اعداد کے مطابق ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے 90 لاکھ اور ہیپاٹائٹس بی کے 38 لاکھ 60 ہزار مریض بھی موجود ہیں، جو مجموعی طور پر صحت کے نظام پر دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ محفوظ طبی طریقوں، سرنجوں کے محفوظ استعمال اور خون کی مکمل جانچ پر سختی سے عمل ہی بچوں کو اس وائرس سے بچا سکتا ہے۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔