امریکہ کے ووٹرز تین نومبر کو ایک ایسے انتخاب میں ووٹ ڈالیں گے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدت صدارت کی سمت طے کر دے گا۔ اس روز کانگریس کے دونوں ایوانوں کی نشستوں پر ووٹنگ ہو گی، اور نتائج یہ فیصلہ کریں گے کہ ملک میں قانون سازی پر کس سیاسی جماعت کا کنٹرول رہے گا۔
صدر کا نام بیلٹ پیپر پر موجود نہیں ہو گا، لیکن ان انتخابات کو ان کی کارکردگی پر عوامی رائے کے ایک بڑے پیمانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ریپبلکن جماعت اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت رکھتی ہے، جب کہ اپوزیشن ڈیموکریٹک جماعت کم از کم ایک ایوان حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اہم نکات
- تین نومبر 2026 کو ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہو گی۔
- ایوان نمائندگان پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں، اور اس وقت ریپبلکن جماعت کے پاس 218 نشستیں ہیں۔
- سینیٹ میں ریپبلکن جماعت کے پاس 53 نشستیں ہیں، جب کہ ڈیموکریٹس کو اکثریت کے لیے 51 نشستیں چاہییں۔
- 36 ریاستوں میں گورنر کا انتخاب بھی اسی روز ہو گا، جن میں کیلیفورنیا، فلوریڈا، جارجیا اور مشی گن کے مقابلے سب سے زیادہ توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
- رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ کی حمایت کی شرح تقریباً 37 فیصد ہے، جب کہ تقریباً 60 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔
- سی بی ایس کی نشاندہی کے مطابق سینیٹ کی 10 نشستوں اور ایوان نمائندگان کے 42 مقابلوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔
کن نشستوں اور عہدوں کے لیے انتخاب ہو گا؟
امریکی کانگریس دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایوان نمائندگان کے تمام 435 ارکان دو سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں، اور نئے قوانین کی تجاویز عموماً اسی ایوان میں پیش کی جاتی ہیں اور ان پر بحث ہوتی ہے۔ اس مرتبہ ایوان کی ہر نشست پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔
دوسری جانب سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ سینیٹرز چھ سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ ان 35 نشستوں میں 33 معمول کی نشستیں اور 2 ضمنی انتخابات شامل ہیں، جو ان نشستوں پر ہو رہے ہیں جو سابق سینیٹرز کے نائب صدر اور وزیر خارجہ بننے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔
اسی روز ملک کے بیشتر حصوں میں ووٹرز ریاستی سطح کے عہدیداروں کا بھی انتخاب کریں گے۔ نئی کانگریس جنوری 2027 میں اپنے کام کا آغاز کرے گی، اور اس کی تشکیل ہی یہ طے کرے گی کہ آئندہ دو برس میں کون سے قوانین بن سکیں گے۔

ووٹرز کے سامنے اہم موضوعات کیا ہیں؟
امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد اس وقت معیشت کے مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ایندھن، اشیائے خور و نوش، رہائش اور صحت کی سہولیات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ڈیموکریٹک جماعت کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ کی تجارتی محصولات سے متعلق پالیسیوں نے بھی صارفین کے لیے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
امیگریشن بھی انتخابات کا ایک اہم موضوع ہے۔ ریپبلکن جماعت کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے ایک بڑے وعدے کو پورا کرتے ہوئے سرحدی نگرانی سخت کی اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا، جو کئی مواقع پر تنازع کا سبب بھی بنی۔
حالیہ ہفتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کے کئی سینئر سیاستدان اس شعبے کے لیے ضابطہ سازی کی ضرورت پر متفق ہیں، تاہم وہ اس معاملے میں ٹرمپ سے اختلاف رکھتے ہیں، جنھوں نے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو قوانین کے ذریعے محدود کرنے کی مخالفت کی ہے۔
اس مرتبہ انتخابی نتائج نسبتاً زیادہ غیر یقینی تصور کیے جا رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ دونوں جماعتوں کے درمیان ایوان نمائندگان کے انتخابی حلقوں کی نئی حد بندیوں پر جاری سیاسی کشمکش ہے۔ دونوں جماعتوں نے بعض ریاستوں میں اپنے لیے زیادہ سازگار انتخابی نقشے ترتیب دینے کی کوشش کی، اور سیاسی مبصرین کے مطابق یہی تنازع نتائج کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
نتائج کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟
اگر ڈیموکریٹک جماعت ایوان نمائندگان یا سینیٹ میں سے کسی ایک پر بھی کنٹرول حاصل کر لیتی ہے تو صدر ٹرمپ کے لیے کانگریس سے نئے قوانین کی منظوری حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا، اور ان کے داخلی پالیسی ایجنڈے کو شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈیموکریٹس کانگریس کی کمیٹیوں کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کے مختلف اقدامات کی تحقیقات بھی شروع کر سکتے ہیں، جن میں مبینہ بدعنوانی، وائٹ ہاؤس میں تعمیر کیے گئے نئے بال روم اور امیگریشن ادارے کی کارروائیوں جیسے معاملات شامل ہو سکتے ہیں۔
ڈیموکریٹک جماعت کے اندر اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی جانی چاہیے۔ مواخذے سے مراد کانگریس میں ایسے الزامات عائد کرنا ہے جو کسی فوجداری مقدمے کے بجائے ایک سیاسی ٹرائل کی بنیاد بنتے ہیں۔
دوسری جانب اگر ریپبلکن جماعت کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو صدر ٹرمپ اپنی مدت صدارت کے باقی عرصے میں اپنی پالیسیوں اور قانون سازی کے منصوبوں کو نسبتاً آسانی سے آگے بڑھا سکیں گے۔ صدر نے ریپبلکن ووٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ ان انتخابات کو ان کی اب تک کی پالیسیوں اور اقدامات کی توثیق کے طور پر دیکھتے ہوئے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کریں۔
ماضی میں امریکی ووٹرز کا رجحان یہ رہا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کے خلاف ووٹ ڈالتے ہیں، اور اسی تاریخی رجحان کو اس مرتبہ بھی ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ آئینی طور پر ٹرمپ تیسری بار صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے، اس لیے ان انتخابات کے بعد یہ بحث تیز ہونے کی توقع ہے کہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں دونوں جماعتوں کی جانب سے کون امیدوار سامنے آئے گا۔ مزید عالمی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز ملاحظہ کریں۔