برطانیہ میں طوفان بوئیلو نے اتوار کے روز تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں درخت گرنے کے دو الگ الگ واقعات میں دو افراد ہلاک ہو گئے اور ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد گھر بجلی سے محروم ہو گئے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ غیر مستحکم موسم آئندہ ہفتے بھی جاری رہ سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اہم نکات
- طوفان بوئیلو برطانیہ میں رواں موسم کا دوسرا نامزد طوفان ہے، جو طوفان آسٹن کے صرف ایک روز بعد آیا۔
- اسکاٹ لینڈ میں ایک 60 سالہ شخص اور لندن میں بیس سالہ نوجوان درخت گرنے سے ہلاک ہوئے۔
- اتوار کی سہ پہر تک ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد گھر بجلی سے محروم تھے؛ آسٹن اور بوئیلو کے دوران مجموعی طور پر 8 لاکھ 38 ہزار سے زائد گھروں کی بجلی متاثر ہوئی۔
- ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 85 میل فی گھنٹہ تک پہنچی، ریل، فضائی اور فیری سروس شدید متاثر ہوئی۔
- انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں سیلاب کی متعدد وارننگز جاری، محکمہ موسمیات نے منگل کے لیے بھی ہوا کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
دو ہلاکتیں اور ریکارڈ ہوائیں
پولیس اسکاٹ لینڈ کے مطابق اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے دس بجے ڈمفریز اینڈ گیلوے کے علاقے مڈ کیلٹن کے قریب ایک معمولی سڑک پر درخت گرنے سے 60 سالہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ اسی روز شمالی لندن میں بھی ایک درخت کار پر گر گیا، جس سے بیس سالہ نوجوان ہلاک ہوا۔ لندن میں ایک اور مقام پر ملبہ گرنے سے دو افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے دوران سب سے تیز ہوائیں ارگل اینڈ بیوٹ کے علاقے ماکریہینش میں 85 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئیں، جبکہ سٹورنووے اور کیپل کیورگ میں رفتار 84 میل فی گھنٹہ رہی۔ جزیرہ ٹائری میں 82 میل فی گھنٹہ کی ہوائیں چلیں۔ اسکاٹ لینڈ اور شمالی انگلینڈ کے بعض حصوں کے لیے جاری کی گئی ایمبر وارننگ اتوار رات 9 بجے ختم ہوئی، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں ییلو وارننگز نافذ رہیں۔
بجلی، سفر اور سیلاب کا بحران
انرجی نیٹ ورکس ایسوسی ایشن کے مطابق اتوار کی سہ پہر تک ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد گھر بجلی سے محروم تھے۔ بجلی کی بحالی کا کام خطرناک موسم کے باعث سست روی کا شکار رہا۔ اسکاٹ لینڈ میں نیٹ ورک ریل نے بتایا کہ متعدد مقامات پر درخت ریلوے لائنوں پر گر گئے، جبکہ فیری آپریٹر کیل میک نے مغربی ساحل کی 30 میں سے 14 سروسز منسوخ کر دیں۔ ڈبلن ایئرپورٹ پر بھی متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں اور ایک پرواز کو موسم کی خرابی کے باعث رخ موڑنا پڑا۔
سیلاب کا خطرہ بھی برقرار رہا۔ پیر کی صبح انگلینڈ کے لیے 10 فلڈ وارننگز اور 65 الرٹس جاری کیے گئے، جبکہ اسکاٹ لینڈ میں 10 وارننگز اور ویلز میں 9 الرٹس نافذ تھے۔ اسکاٹش ہائی لینڈز کے علاقے کلونی ان میں 130 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ کلائیڈ ساحل کے قصبوں لارگز اور گوروک میں سڑکیں اور کاروبار زیر آب آ گئے، جبکہ ایبرفیلڈی میں درخت گرنے سے دو خواتین زخمی ہو کر اسپتال پہنچیں۔

حکام کی وارننگ اور آئندہ صورتحال
اسکاٹش حکومت کا ہنگامی کمرہ اتوار کی سہ پہر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس میں بیٹھا، جس میں فرسٹ منسٹر جان سوینی بھی شریک ہوئے۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور عمارتوں اور درختوں کے قریب کھڑے ہونے سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کی صبح مغربی علاقوں میں بارش اور شمال مشرق میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ شمالی برطانیہ کے لیے منگل کو ہوا کی نئی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طوفان آسٹن کے بعد بوئیلو کا آنا ظاہر کرتا ہے کہ برطانیہ میں شدید موسم کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے، اور بحالی کا کام اگلے چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
مزید عالمی خبروں کے لیے وتن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔