اسلام آباد میں سینیٹ نے ملک میں آبادی کے تیز رفتار اضافے سے نمٹنے کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں آبادی میں اضافے کو قومی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس پر فوری اور مربوط اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اہم نکات
- سینیٹ نے آبادی میں اضافے سے نمٹنے کی قرارداد منظور کر لی۔
- قرارداد پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پیش کی۔
- موجودہ رفتار جاری رہی تو 2050 تک آبادی 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
- پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد بچے غذائی قلت کے باعث نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں۔
- وفاقی و صوبائی حکومتوں، پارلیمان، میڈیا، علما اور کمیونٹی رہنماؤں سے مشترکہ حکمت عملی کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں کیا کہا گیا
قرارداد پیش کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آبادی میں اضافہ اب محض ایک اعداد و شمار کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک بڑا قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 39 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، اس لیے فوری اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔
انہوں نے توجہ دلائی کہ پاکستان میں آبادی بڑھنے کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں منصوبہ بندی کو قومی بجٹ، معاشی پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں کا لازمی حصہ بنانا ہوگا تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
آبادی میں اضافے کا دباؤ
قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی خوراک، پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ وسائل محدود ہیں جبکہ ان پر انحصار کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔

شیری رحمان نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد بچے غذائی قلت کے باعث نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں۔ اسی طرح بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ نہ ہونے سے ماؤں کی صحت اور زندگی کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں، اس لیے خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا ضروری ہے۔
مشترکہ قومی حکمت عملی کا مطالبہ
قرارداد میں کہا گیا کہ آبادی کے مسئلے سے نمٹنا کسی ایک ادارے یا ایک صوبے کا کام نہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں، پارلیمان، میڈیا، علما اور کمیونٹی رہنماؤں کو مل کر ایک مشترکہ قومی حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ عوام میں آگاہی پیدا ہو اور منصوبہ بندی کی سہولیات ہر خاندان تک پہنچیں۔
سینیٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ اس معاملے کا تعلق آنے والی نسلوں کے مستقبل سے ہے۔ مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔