رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ میں مقتولہ حنا جاوید کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور اس کیس کی جامع تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کے مطالبے کی حمایت کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے، اور امید ہے کہ اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور ہوگا۔
اہم نکات
- آصفہ بھٹو زرداری کی پارلیمنٹ میں حنا جاوید کے اہل خانہ سے ملاقات
- اہل خانہ کا جامع تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ
- وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ کمیشن سے پہلے دوبارہ تفتیش کا راستہ بھی موجود ہے
- حنا جاوید اگست 2026 میں اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں، شوہر اور گھریلو ملازم گرفتار ہیں
- قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ بھی کیس کی دوبارہ تفتیش کی ہدایت کر چکی ہے
ملاقات میں کیا کہا گیا
آصفہ بھٹو زرداری نے لواحقین سے ملاقات کے دوران کہا کہ حنا جاوید کے اہل خانہ چاہتے ہیں کہ اس کیس کی جامع تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔ ان کے مطابق مقدمے کے ہر پہلو کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ حقائق پوری طرح سامنے آ سکیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔
اہل خانہ کی جانب سے پہلے بھی یہ موقف سامنے آ چکا ہے کہ انہیں پولیس کی تفتیش پر تحفظات ہیں اور وہ اس کیس کی غیر جانبدار تحقیقات چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حنا جاوید قتل کیس کا پس منظر
حنا جاوید اگست 2026 میں اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ان کی شادی تقریباً نو ماہ قبل فیصل اصغر سے ہوئی تھی۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق قتل کے الزام میں شوہر فیصل اصغر اور ایک گھریلو ملازم گرفتار ہیں، جبکہ سسر بھی اس مقدمے میں نامزد ہیں۔
بعد میں اس کیس کو اہم نوعیت کا قرار دیا گیا اور پنجاب کے محکمہ پراسیکیوشن نے سینئر پراسیکیوٹرز پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی، جسے کیس کی تفتیش سائنسی اور جامع بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

تحقیقات پر دو آرا
دوسری جانب اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ یہ ایک مختلف نوعیت کا کیس ہے اور عدالتی کمیشن کے قیام سے پہلے دوبارہ تفتیش کا راستہ بھی موجود ہے۔ ان کی درخواست تھی کہ اس پہلو پر بھی غور کیا جائے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے بھی حنا جاوید قتل کیس کی دوبارہ تفتیش کی ہدایت کر رکھی ہے۔ کیس کی تفتیش ابھی جاری ہے اور لواحقین شفاف تحقیقات اور انصاف کے منتظر ہیں۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔