اسلام آباد — پاکستان نے اتوار کو ترقی پذیر ممالک کے بین الحکومتی گروپ، جی ٹوئنٹی فور، کی چیئرمین شپ باضابطہ طور پر سنبھال لی ہے۔ پاکستان نے یہ ذمہ داری نائجیریا سے حاصل کی ہے، اور آئندہ ایک سال تک گروپ کی قیادت کرے گا۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس عہدے کے ذریعے پاکستان ترقی پذیر معیشتوں کی اجتماعی آواز کو عالمی مالیاتی فیصلوں میں مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔
اہم نکات
- پاکستان نے یکم نومبر ۲۰۲۶ کو جی ٹوئنٹی فور کی چیئرمین شپ سنبھالی، نائجیریا کی جگہ لی۔
- وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے صدارت کو بڑی ذمہ داری قرار دیا۔
- پاکستان کی تین ترجیحات: ترقی پر مبنی نمو، ترقی پذیر ممالک کی مضبوط نمائندگی، اور عالمی مالیاتی نظام کی اصلاح۔
- جی ٹوئنٹی فور ۱۹۷۱ میں قائم ہوا اور اس میں افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور کیریبین کے ۲۴ ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔
- وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ کو مبارکباد دی اور اسے پاکستان کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔
صدارت کی منتقلی کیسے ہوئی
پاکستان کی صدارت کا اعلان گزشتہ ماہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ہونے والے اجلاس میں ہوا تھا، جہاں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گروپ کے پہلے نائب چیئرمین کی حیثیت سے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس کی صدارت کی تھی۔ یہ اجلاس عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر منعقد ہوا تھا۔ یکم نومبر کو پاکستان نے باضابطہ طور پر صدارت سنبھال لی۔
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے صدارت کو گہری ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ اور ایک منصفانہ و ترقی پر مبنی عالمی مالیاتی نظام کے لیے کام کرے گا۔ انہوں نے سبکدوش ہونے والے چیئرمین نائجیریا کی قیادت کو بھی سراہا اور گروپ کی پیش رفت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ اور وزارت خزانہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ عہدہ عالمی معیشت میں پاکستان کے کردار کا اعتراف ہے اور ملک کے لیے ایک اہم سفارتی سنگ میل ہے۔
جی ٹوئنٹی فور چیئرمین شپ: پاکستان کی تین ترجیحات
پاکستان نے اپنی صدارت کے لیے تین واضح ترجیحات مقرر کی ہیں۔ پہلی ترجیح ترقی کو عالمی اقتصادی پالیسی سازی کا مرکز بنانا ہے، تاکہ ترقی پذیر ممالک کی نمو کو عالمی مالیاتی نظام میں اولیت ملے۔
دوسری ترجیح ترقی پذیر معیشتوں کی نمائندگی مضبوط بنانا ہے، یعنی عالمی مالیاتی اداروں میں فیصلہ سازی میں ان کی بامعنی شرکت اور ان کی ضروریات کے مطابق زیادہ جوابدہ رویہ۔ تیسری ترجیح ترقی پر مبنی عالمی مالیاتی نظام کی تعمیر ہے، جس میں سستی اور بروقت ترقیاتی مالی معاونت، پائیدار قرضوں کے حل، مضبوط عالمی مالیاتی حفاظتی نظام، موسمیاتی لچک اور سرکاری و نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا شامل ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ان ترجیحات کے ذریعے پاکستان موسمیاتی جھٹکوں، ترقیاتی مالی معاونت کے خلا اور عالمی اقتصادی تقسیم جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

جی ٹوئنٹی فور کیا ہے
بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور ۱۹۷۱ میں قائم ہوا تھا۔ اس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے مالیاتی اور ترقیاتی امور پر مشترکہ موقف تیار کرنا ہے، خاص طور پر عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے ساتھ معاملات میں۔ گروپ میں افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور کیریبین کے ۲۴ رکن ممالک شامل ہیں، جن کی نمائندگی ان کی وزارتیں خزانہ اور مرکزی بینک کرتے ہیں۔
گروپ کی صدارت کرنے والا ملک گروپ کے سالانہ کام کا ایجنڈا طے کرتا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے اجلاسوں میں گروپ کی مشترکہ آواز کی نمائندگی کرتا ہے۔ پاکستان کی صدارت اس لحاظ سے اہم ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی مالیاتی اصلاحات پر اپنی بات منوانے کا ایک مضبوط پلیٹ فارم ملے گا۔
مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔