اسلام آباد — وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے ملک کی تمام آئل ریفائنریز کو نیا فارمولا جاری کر دیا ہے جس کا مقصد عالمی کشیدگی کے باعث بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کا بوجھ عام صارفین پر منتقل ہونے سے روکنا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین اب پاکستان اسٹیٹ آئل کے متعلقہ کارگو کی اصل درآمدی لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ریفائنریز کو آئندہ 30 روز تک اپنی ایکس ریفائنری قیمت 7 مارچ 2026 کی سطح پر مقرر کرنے کی اجازت ہوگی، اور درآمدی قیمت اور ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان فرق پیٹرولیم لیوی کے کھاتے میں جمع کرایا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لیوی میں ردوبدل سے حاصل ہونے والا فائدہ صرف پیٹرول صارفین کو قیمت میں کمی کی صورت میں منتقل کیا جائے گا۔
اہم نکات
- وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا نظرثانی شدہ طریقہ کار منظور کیا۔
- درآمدی قیمت کا تعین پاکستان اسٹیٹ آئل کے متعلقہ کارگو کی اصل درآمدی لاگت پر ہوگا۔
- اصل لاگت دستیاب نہ ہونے پر آخری دستیاب کارگو کے پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کو بنیاد بنایا جا سکے گا۔
- ریفائنریز آئندہ 30 روز تک 7 مارچ 2026 کی سطح پر پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی مقرر کر سکیں گی۔
- درآمدی اور ایکس ریفائنری قیمت کا فرق پیٹرولیم لیوی کے کھاتے میں جمع کرایا جائے گا۔
- پیٹرول کی قیمت 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر برقرار ہے۔
پیٹرول کی قیمت کا نیا طریقہ کار کیا ہے
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ریفائنریز کو ارسال کیے گئے مراسلوں کے مطابق نئے طریقہ کار کا اطلاق آئندہ 30 روز کے لیے ہوگا۔ پیٹرول کی درآمدی قیمت کے تعین کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل کے اصل درآمدی کارگو کی لاگت کو بنیاد بنایا جائے گا، اور اگر روزانہ قیمتوں کے تعین کے وقت اصل درآمدی لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کارگو کے پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کو استعمال کیا جا سکے گا۔
دوسری جانب آئل ریفائنریز کو آئندہ 30 روز کے لیے پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 7 مارچ 2026 کی سطح پر پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی مقرر کر کے حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔ درآمدی قیمت اور ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان فرق ریفائنریز کو پیٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کرانا ہوگا۔ ریفائنریز کو پیٹرول کی روزانہ فروخت کی تفصیلات پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔
یہ نیا طریقہ کار ملک کی بڑی ریفائنریز پر لاگو ہوگا جن میں پاک عرب ریفائنری، پاکستان ریفائنری، اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری، سینرجیکو ریفائنری اور اینار پیٹرولیم ریفائننگ فیسیلٹی شامل ہیں۔

صارفین کو کیا ریلیف ملے گا
حکومتی فیصلے کا براہ راست فائدہ پیٹرول صارفین کو پہنچے گا۔ درآمدی لاگت میں فی لیٹر 14 روپے 71 پیسے اضافے کے باوجود پیٹرول کی قیمت 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔ مجموعی طور پر مقرر کردہ 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی میں سے 65 روپے 29 پیسے براہ راست وصول کیے جائیں گے جبکہ 14 روپے 71 پیسے کی رقم ریفائنریز کے ذریعے ایڈجسٹ کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق پیٹرول کے درآمدی پریمیم میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 19 ڈالر 88 سینٹ فی بیرل سے بڑھ کر 25 ڈالر 52 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گیا ہے، جبکہ نومبر میں آنے والے کارگوز پر یہ پریمیم 28 سے 35 ڈالر فی بیرل تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ نئے فارمولے کا مقصد اسی دباؤ کو صارفین تک پہنچنے سے روکنا ہے، اور لیوی میں ردوبدل کا فائدہ قیمت میں کمی کی صورت میں صرف پیٹرول صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔
ریفائنریز کے تحفظات اور پس منظر
دوسری جانب آئل ریفائنریز نے نئے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پریمیم اور اخراجات کو پرانی سطح پر منجمد کرنے سے ان کی لاگت کی وصولی متاثر ہوگی اور بعض ریفائنریز کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ریفائنری حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل ہونے سے ریفائنریز کی جدید کاری کے منصوبوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
اس فیصلے کا پس منظر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نیا طریقہ کار صارفین کو اس اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ ریفائنریز کا کہنا ہے کہ انہیں اس فیصلے سے پہلے مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا۔ مزید قومی خبریں پڑھیں۔