اسلام آباد — وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کے اختلافات نئے نہیں ہیں، تاہم اس سے پہلے معاملہ اس حد تک نہیں پہنچا تھا۔ انہوں نے یہ بات جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران کہی۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے ان کے اچھے مراسم ہیں اور وہ اس معاملے پر فوری ردعمل نہیں دینا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی دونوں کے درمیان اختلاف رائے سامنے آتا رہا ہے، لیکن موجودہ صورتحال پہلے سے مختلف ہے۔
اہم نکات
- وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کی۔
- انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے پہلے بھی اختلافات رہے، مگر معاملہ اس نہج تک نہیں پہنچا تھا۔
- ان کا کہنا تھا کہ مولانا سے ان کے اچھے مراسم ہیں اور وہ فوری ردعمل نہیں دینا چاہتے تھے۔
- انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اس مؤقف پر تبصرہ کیا کہ جماعت نے گورنر راج میں حصہ نہیں مانگا تھا۔
- گفتگو میں خیبر پختونخوا میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر بھی ان کا مؤقف سامنے آیا۔
نیا پاکستان میں گفتگو
خواجہ آصف نے گفتگو میں کہا کہ ان کی ذات پر تنقید ان کے لیے مسئلہ نہیں ہے، لیکن ان کے خیال میں اس تنقید کے ذریعے حکومت کی ساکھ پر سوال اٹھایا جا رہا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلاف رائے کے باوجود سیاسی گفتگو کو ذاتی حملوں سے الگ رکھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے کچھ وقت کے بعد اپنا مؤقف پیش کیا۔ ان کے مطابق پرانے اختلافات کے باوجود دونوں کے درمیان رابطہ اور بات چیت کا سلسلہ موجود رہا ہے۔

خواجہ آصف کا گورنر راج سے متعلق مؤقف
وزیر دفاع نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اس بیان پر تبصرہ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ جماعت نے گورنر راج میں کبھی حصہ نہیں مانگا تھا۔ خواجہ آصف نے اس بیان کو معصومیت کا اظہار قرار دیا اور کہا کہ اس معاملے پر ان کا مؤقف مختلف ہے۔
گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان اس موضوع پر سخت تبادلہ خیال ہوا تھا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ زیر بحث رہا۔ تازہ گفتگو میں وزیر دفاع نے اسی پس منظر میں اپنا مؤقف دہرایا۔
خیبر پختونخوا سے متعلق تبصرہ
گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 برس کے دوران ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی کاموں کے لیے بڑی رقوم لی جاتی رہیں، لیکن ان کے مطابق یہ رقم عوامی منصوبوں تک پوری طرح نہیں پہنچی۔ یہ ان کا اپنا مؤقف ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کے اندر کئی گروپ آپس میں اختلاف کا شکار ہیں۔ اس تبصرے کو بھی ان کے ذاتی سیاسی تجزیے کے طور پر پیش کیا گیا، نہ کہ کسی حتمی فیصلے کے طور پر۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔