امریکی فوج میں حسن نیدال کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی فوجی پھانسی ہوگی۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظور کیا ہے اور اس پر عملدرآمد 3 دسمبر کو فورٹ ہڈ، ٹیکساس میں ہوگا۔
حسن نیدال کا مقدمہ اور جرم
حسن نیدال، جو کہ ایک امریکی فوج کے نفسیاتی معالج تھے، نے 5 نومبر 2009 کو فورٹ ہڈ میں 13 بے گناہ فوجیوں کو ہلاک اور 32 کو زخمی کیا تھا۔ یہ واقعہ امریکی فوجی اڈوں پر غیر جنگی حملوں میں سب سے مہلک تھا۔ حسن نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ وہ گولی چلانے والا تھا اور اس نے اپنی غلطیوں پر معذرت بھی کی تھی۔
- حسن نیدال نے 2009 میں فورٹ ہڈ میں 13 فوجیوں کو قتل کیا۔
- اس نے عدالت میں اعتراف کیا اور معذرت بھی کی۔
- اس نے دعویٰ کیا کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں اور طالبان کا دفاع کر رہا تھا۔
- یہ واقعہ امریکی فوجی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
سزائے موت کی منظوری اور طریقہ کار
پینٹاگون کے ترجمان سیان پارنیل نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے سزائے موت کی سفارش کی تھی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظور کیا۔
- حسن نیدال کو 3 دسمبر کو فورٹ ہڈ، ٹیکساس میں پھانسی دی جائے گی۔
- یہ فوجی پھانسی 60 سال سے زائد عرصے بعد ہوگی۔
- فائرنگ اسکواڈ کا طریقہ کار 1983 میں غیر آئینی قرار دیا گیا تھا لیکن صدر رونالڈ ریگن نے اسے بحال کیا۔
- فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری لازمی ہے۔
امریکی فوج میں سزائے موت کی تاریخ
حسن نیدال امریکی فوج کی موت کی سزا پانے والے چار قیدیوں میں سے ایک ہیں۔ فوجی سزائے موت کی بحالی صدر رونالڈ ریگن کے دور میں ہوئی تھی۔
ریاستی اور فوجی سزائے موت میں فرق
امریکا میں زیادہ تر سزائے موت ریاستی سطح پر دی جاتی ہیں، لیکن 27 ریاستیں، فوج اور وفاقی حکومت میں اب بھی سزائے موت قانوناً موجود ہے۔
- فائرنگ اسکواڈ کا طریقہ کار بہت کم استعمال ہوتا ہے۔
- جنوبی کیرولائنا میں گزشتہ سال اس طریقے سے پھانسی دی گئی تھی۔
- ایڈاہو، مسیسپی، اوکلاہوما اور یوٹاہ بھی فائرنگ اسکواڈ کی اجازت دیتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف اور پالیسی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ وفاقی سطح پر سزائے موت کے حامی رہے ہیں اور انہوں نے جنوری 2025 میں اپنے اقتدار کے پہلے دن اسے بحال کیا۔ ان کے دور سے قبل، سابق صدر جو بائیڈن نے وفاقی سزائے موت پر امتناع عائد کیا تھا۔
نتیجہ
حسن نیدال کی سزائے موت امریکی فوج کے لیے ایک تاریخی واقعہ ہے، جو 60 سال بعد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جائے گی۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کا عکاس ہے جو جرائم کے خلاف ایک مضبوط پیغام دے رہی ہیں۔ اس فیصلے نے ملک میں سزائے موت کے استعمال اور اس کے طریقہ کار پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
فائرنگ اسکواڈ کا طریقہ کار اگرچہ کم استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ اب بھی چند امریکی ریاستوں اور اب فوجی سطح پر بھی قانونی طور پر موجود ہے۔ یہ واقعہ حسن نیدال کے جرم کی سنگینی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
حسن نیدال کو کس جرم میں سزا سنائی گئی؟
حسن نیدال کو 2009 میں فورٹ ہڈ، ٹیکساس میں 13 فوجیوں کے قتل اور 32 کو زخمی کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔
یہ پہلی فوجی پھانسی کب ہوئی تھی؟
یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی فوجی پھانسی ہوگی، جو کہ 60 سال سے زائد عرصے بعد دی جا رہی ہے۔
فائرنگ اسکواڈ کا طریقہ کار کیا ہے؟
فائرنگ اسکواڈ میں، سزا یافتہ شخص کو قطار میں کھڑے سپاہیوں کے ایک گروپ کے سامنے باندھ دیا جاتا ہے، جو بیک وقت فائرنگ کرتے ہیں۔
کیا امریکہ میں سزائے موت اب بھی رائج ہے؟
جی ہاں، امریکہ کی 27 ریاستوں، وفاقی حکومت اور فوجی نظام میں سزائے موت اب بھی قانوناً موجود ہے۔