وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ساڑھے تین ہزار قیدیوں کو اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منتقلی کے پہلے مرحلے میں 1500 قیدیوں کو نئی جیل میں منتقل کیا جائے گا، جب کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد اس جیل کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔
اہم نکات
- اڈیالہ جیل سے ساڑھے تین ہزار قیدی اسلام آباد کی ماڈل جیل منتقل کیے جائیں گے۔
- پہلے مرحلے میں 1500 قیدیوں کی منتقلی ہوگی۔
- وزیراعظم شہباز شریف جلد ماڈل جیل کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔
- ماڈل جیل کی تعمیر 2009 میں شروع ہوئی تھی اور 2024 میں اس پر کام دوبارہ تیز ہوا۔
- وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے منصوبے کی نگرانی میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر داخلہ کا اعلان
اسلام آباد کی ماڈل جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اس جیل میں قیدیوں اور ان سے ملنے آنے والوں کے لیے تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے سب نے بہت محنت کی ہے اور اب یہ جیل ہر لحاظ سے جدید سہولتوں سے آراستہ ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد کی جیل ان منصوبوں میں شامل ہے جو گزشتہ دس برس سے زیر التوا تھے۔ ان کے مطابق 2024 میں جب موجودہ ٹیم نے کام سنبھالا تو اس وقت وہاں صرف ایک عارضی ڈھانچہ موجود تھا، جس کے بعد تعمیراتی کام کو نئی رفتار دی گئی۔
ماڈل جیل اسلام آباد کا پس منظر
ماڈل جیل کی تعمیر کا آغاز 2009 میں ہوا تھا، تاہم یہ منصوبہ طویل عرصے تک مکمل نہ ہو سکا اور عملی طور پر بند ہو گیا تھا۔ 2024 میں اس پر دوبارہ کام شروع ہوا، جس کے بعد جیل کی عمارتوں اور سہولتوں کو جدید خطوط پر مکمل کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ وہ ہر دوسرے دن ماڈل جیل آتے رہے اور منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی کرتے رہے۔

منتقلی اور اگلے مراحل
اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو بھی ماڈل جیل اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اڈیالہ جیل سے ساڑھے تین ہزار قیدی ماڈل جیل منتقل ہوں گے اور پہلے مرحلے میں 1500 قیدیوں کی منتقلی کی جائے گی۔
وزیر داخلہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف جلد اس جیل کا باقاعدہ افتتاح کریں گے، جس کے بعد منتقلی کا عمل آگے بڑھے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی جیل میں قیدیوں کے لیے بہتر رہائش، ملاقات اور دیگر بنیادی سہولتیں دستیاب ہوں گی۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کریں۔