×
پارک میں تیز چہل قدمی کرتے بزرگ افراد

روزانہ کی چہل قدمی کی رفتار آپ کی صحت کے بارے میں اہم اشارہ دے سکتی ہے۔ اکتوبر 2026 میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تیز چہل قدمی کرنے والے افراد میں کسی بھی وجہ سے جلد موت کا خطرہ کم پایا گیا۔ یہ تحقیق جریدہ جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں 23 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی اور اس میں روزانہ قدموں کی مجموعی تعداد سے الگ، چہل قدمی کی رفتار اور قدموں کی رفتار کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اہم نکات

  • تحقیق 23 اکتوبر 2026 کو جریدہ جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی۔
  • چار ہزار سے زیادہ برطانوی سرکاری ملازمین کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، جن کی اوسط عمر تقریباً 69 برس تھی۔
  • تیز چہل قدمی کی رفتار سے موت کا خطرہ 23 فیصد کم پایا گیا۔
  • قدموں کی تیز رفتار سے یہ خطرہ 17 فیصد کم پایا گیا۔
  • یہ تعلق روزانہ قدموں کی مجموعی تعداد سے الگ بھی برقرار رہا۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا

محققین نے بتایا کہ چہل قدمی کی رفتار اور فی منٹ قدموں کی تعداد، دونوں کا موت کے خطرے سے تعلق پایا گیا، چاہے کوئی شخص دن بھر میں مجموعی طور پر کتنے قدم چلتا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف قدموں کی تعداد ہی نہیں، بلکہ چلنے کا انداز اور رفتار بھی اہمیت رکھ سکتی ہے۔ تحقیق کی قیادت نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ریانے حدادج نے کی۔

رفتار اور قدموں کی تعداد

مطالعے میں زیادہ رفتار سے چلنے والوں میں موت کا خطرہ 23 فیصد کم پایا گیا، جب کہ قدموں کی زیادہ رفتار سے یہ خطرہ 17 فیصد کم پایا گیا۔ یہ نتائج اس وقت بھی برقرار رہے جب روزانہ قدموں کی مجموعی تعداد کو حساب میں شامل کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رفتار کا اپنا الگ تعلق ہو سکتا ہے۔

شرکاء کون تھے

اس تحقیق میں چار ہزار سے زیادہ برطانوی سرکاری ملازمین شامل تھے جو 1980 کی دہائی کے آخر میں شروع ہونے والے ایک طویل صحت کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان افراد کا ہر چار سے پانچ برس بعد طبی معائنہ کیا گیا۔ برس 2012 اور 2013 میں ان کی چہل قدمی کی رفتار ناپی گئی اور انہوں نے ایک آلہ پہنا جس سے فی منٹ قدموں کی تعداد ریکارڈ کی گئی۔

تیز چہل قدمی اور لمبی زندگی
کھلی سڑک پر تیز چہل قدمی کرتا ایک شخص

تیز چہل قدمی کیوں فائدہ مند ہو سکتی ہے

ماہرین کے مطابق تیز چہل قدمی کرنے کی صلاحیت اکثر بہتر مجموعی صحت کی علامت ہو سکتی ہے۔ نارتھ ویل اسٹیٹن آئی لینڈ یونیورسٹی اسپتال کے شعبہ طب کے سربراہ تھیوڈور اسٹرینج نے کہا کہ تیز رفتار سے چلنے والے افراد میں عام طور پر دائمی بیماریاں کم ہوتی ہیں، یا ان کی بیماریاں بہتر طور پر قابو میں ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق جب صحت کمزور ہونے لگتی ہے تو چہل قدمی کی رفتار اکثر سب سے پہلے متاثر ہونے والی صلاحیتوں میں سے ایک ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ گرنے، کمزوری اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

اس لیے چہل قدمی کی رفتار کو صرف ایک عادت کے طور پر نہیں، بلکہ صحت کی عمومی حالت کے ایک اشارے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ رفتار میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص کی صحت لازمی طور پر خراب ہے، کیوں کہ عمر، جوڑوں کی تکلیف اور دیگر حالات بھی رفتار پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

تیز چہل قدمی کے لیے ماہرین کی عملی رہنمائی

ماہرین کی نصیحت یہ ہے کہ چہل قدمی کی رفتار اچانک بہت زیادہ نہ بڑھائی جائے، بلکہ آہستہ آہستہ بہتری لائی جائے۔ جو لوگ ابھی کم چلتے ہیں، وہ پہلے اپنی موجودہ رفتار اور قدموں کی تعداد کو چند دن تک نوٹ کریں، پھر بتدریج اضافہ کریں۔

آہستہ آغاز کریں

اپنی آرام دہ رفتار سے شروع کریں اور وقت کے ساتھ فی منٹ قدموں کی تعداد میں تھوڑا تھوڑا اضافہ کریں۔ ماہرین کے مطابق چھوٹے قدم زیادہ محفوظ ہو سکتے ہیں، کیوں کہ لمبے قدموں سے ٹھوکر لگنے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ پہلے قدموں کی تعداد کو 5 ہزار سے 6 ہزار تک لانا، پھر 7 ہزار سے 8 ہزار تک پہنچنا ایک عملی ہدف ہو سکتا ہے۔

درست انداز اختیار کریں

چلتے وقت سیدھے کھڑے ہوں، کندھے پیچھے رکھیں، جسم کو پرسکون رکھیں اور بازوؤں کو قدرتی انداز میں حرکت دیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دس ہزار قدموں کا ہدف ضروری نہیں، اگرچہ وقت اور صلاحیت ہو تو دس ہزار قدم بھی اچھا ہدف ہے، لیکن 7 ہزار سے 8 ہزار قدموں کی حد بھی مفید ہو سکتی ہے۔

احتیاط اور حدود

یہ تحقیق ایک تعلق ظاہر کرتی ہے، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف رفتار بڑھانے سے ہی زندگی لمبی ہو جائے گی۔ چہل قدمی کی رفتار مجموعی صحت، جسمانی طاقت اور بیماریوں کی حالت کا بھی عکس ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق کے شرکاء بڑی عمر کے برطانوی سرکاری ملازمین تھے، اس لیے نتائج ہر عمر اور ہر گروہ پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہو سکتے۔ دل، جوڑوں یا توازن سے متعلق مسائل رکھنے والے افراد کو اپنی معمول کی سرگرمی میں بڑی تبدیلی سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ یہ خبر عمومی معلومات کے لیے ہے، کسی فرد کے لیے ذاتی طبی مشورہ نہیں۔

نتیجہ

نئی تحقیق کا پیغام سادہ ہے: چہل قدمی میں صرف تعداد نہیں، رفتار بھی معنی رکھتی ہے۔ اپنی آرام دہ رفتار سے شروع کر کے بتدریج تیز چہل قدمی کی عادت اپنانا ایک عملی اور قابل حصول ہدف ہو سکتا ہے۔ یہ عادت مجموعی صحت، توانائی اور روزمرہ کی سرگرمیوں میں بہتری سے جڑی ہوئی پائی گئی ہے، بشرطیکہ اسے آہستگی اور احتیاط کے ساتھ اپنایا جائے۔

عام سوالات

کیا صرف تیز چہل قدمی کافی ہے؟

تیز چہل قدمی ایک مفید عادت ہے، لیکن مجموعی صحت کے لیے متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور بیماریوں کا بروقت علاج بھی اہم ہیں۔ چہل قدمی کو صحت مند طرز زندگی کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ واحد حل۔

کیا دس ہزار قدم روزانہ ضروری ہیں؟

نہیں، ماہرین کے مطابق دس ہزار قدم ضروری نہیں۔ 7 ہزار سے 8 ہزار قدموں کی حد بھی مفید ہو سکتی ہے، اور اس سے کم تعداد سے شروع کر کے بتدریج اضافہ کرنا زیادہ عملی طریقہ ہے۔

تیز چہل قدمی کیسے شروع کریں؟

اپنی آرام دہ رفتار سے شروع کریں، چند دن تک اپنے قدم نوٹ کریں، پھر رفتار اور تعداد میں آہستہ آہستہ اضافہ کریں۔ سیدھی کرنسی رکھیں، چھوٹے اور محفوظ قدم اٹھائیں، اور تھکن یا درد محسوس ہونے پر رفتار کم کر دیں۔

کیا چہل قدمی کی رفتار صحت کی علامت ہو سکتی ہے؟

جی ہاں، تحقیق کے مطابق چہل قدمی کی رفتار مجموعی صحت کا ایک اشارہ ہو سکتی ہے، لیکن یہ کوئی تشخیص نہیں۔ رفتار میں کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، اس لیے اسے اکیلے بنیاد بنا کر کوئی نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔

ذرائع: جریدہ جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں 23 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی تحقیق اور ہیلتھ ڈے کی رپورٹ۔ مزید صحت کی خبریں وطن نیوز پر پڑھی جا سکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanch0013@gmail.com

Related Posts

تعمیراتی سائٹ پر ری سائیکلنگ کے لیے سفید پی وی سی پائپوں کی چھانٹی کرتے مزدور

ایالا لینڈ اور کراؤن پائپس کا پی وی سی واپسی پروگرام، تعمیراتی فضلہ کم ہوگا

فلپائن کی ایالا لینڈ اور کراؤن ایشیا کیمیکلز نے پائپوں کی کترنوں کی واپسی کے پروگرام کے ذریعے تعمیراتی پی وی سی...

Read out all
انطالیہ میں بین الاقوامی موسمیاتی سربراہی اجلاس کے ہال میں قومی پرچموں کے ساتھ مندوبین

لولا کاپ31 میں شرکت کریں گے، برازیل صدارت ترکیہ کے حوالے کرے گا

برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا 11 تا 12 نومبر کے رہنماؤں کے اجلاس کے لیے انطالیہ میں کاپ31 میں...

Read out all
مالدیپ کے فیروزی سمندر میں جزیرے اور پانی پر بنے گھر

دنیا کے سیاحتی مقامات: یورپ، امریکہ، ایشیا، جزیرے اور خلیج کا حسین ترین سفر

دنیا کے سیاحتی مقامات کی مکمل سیر: پیرس، روم اور سینٹورینی سے نیویارک اور گرینڈ کینین تک، بالی اور مالدیپ کے جزیرے،...

Read out all
امریکی مکانوں کی قیمتوں میں کمی کے بعد رہائشی علاقے میں جدید مکانات

امریکی مکانوں کی قیمتوں میں تین سال بعد پہلی کمی، خریداروں کی مانگ کم ترین سطح پر

امریکی مکانوں کی قیمتوں میں تین سال بعد پہلی سالانہ کمی آئی ہے، جب کہ خریداروں کی مانگ کم ترین سطح پر...

Read out all
پاور لیٹس سرمایہ کاری اے آئی چپ پروسیسر کی قریبی تصویر

پاور لیٹس کے بانیوں کی بڑی کامیابی: اے آئی چپس کے لیے 86 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

پاور لیٹس کے بانیوں نے اے آئی چپس کی بجلی کی ضرورت کم کرنے والی ٹیکنالوجی کے لیے 86 ملین ڈالر حاصل...

Read out all
پیرس فیشن ویک میں ٹرینچ کوٹ پہنے ماڈل

پیرس فیشن ویک میں 2027 کے بہار کے نمایاں رجحانات: سنہری رنگ، جامنی رنگ اور لازوال ٹرینچ کوٹ

پیرس فیشن ویک کے اختتام پر 2027 کے بہار کے رجحانات سامنے آ گئے ہیں، جن میں سنہری رنگ، جامنی رنگ، مضبوط...

Read out all