برازیلیا: برازیل کے صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد سینیٹر فلاویو بولسونارو امریکا پہنچ گئے ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب برازیل کی سپریم کورٹ کی جانب سے پاسپورٹ جمع کرانے کی مہلت گزرنے پر ان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق امریکا نے انہیں اور ان کے خاندان کو ویزے جاری کرنے اور داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ان کے ملک سے نکلنے کا طریقہ کار ابھی واضح نہیں ہے۔
اہم نکات
- 25 اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے 51.79 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ فلاویو بولسونارو کو 48.21 فیصد ووٹ ملے۔
- 26 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے بولسونارو کو 24 گھنٹوں میں اپنے پاسپورٹ پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم منی لانڈرنگ کی ایک تحقیقات کے سلسلے میں دیا گیا، جس میں بولسونارو پر ابھی فرد جرم عائد نہیں ہوئی اور وہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
- 27 اکتوبر کو مہلت گزرنے کے بعد ان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے گئے۔ اسی روز ذرائع نے ان کے امریکا روانہ ہونے کی خبر دی۔
- امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق بولسونارو اور ان کے خاندان کو ویزے جاری کیے جائیں گے اور انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت ہوگی۔
- برازیل کی فیڈرل پولیس کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق بولسونارو کسی عام امیگریشن چیک پوائنٹ سے ملک سے باہر جاتے ہوئے ریکارڈ نہیں ہوئے۔ ان کے سفر کا راستہ ابھی غیر واضح ہے۔
انتخابی شکست اور پاسپورٹ کا حکم
فلاویو بولسونارو، جن کی عمر 45 برس ہے، برازیل کی سینیٹ کے رکن ہیں۔ وہ صدارتی انتخاب میں کامیابی کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے، لیکن 25 اکتوبر کو دوسرے مرحلے میں انہیں شکست ہوئی۔ جیت کا فرق 44 لاکھ سے زیادہ ووٹوں کا بتایا گیا ہے۔
انتخاب کے اگلے روز، 26 اکتوبر کو، سپریم کورٹ نے انہیں 24 گھنٹوں کے اندر اپنے پاسپورٹ فیڈرل پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکم منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کے تناظر میں دیا گیا۔ بولسونارو نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور ان پر اس مقدمے میں ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہوئی ہے۔ ان کی قانونی ٹیم نے مہلت گزرنے کے بعد بتایا کہ انہیں بولسونارو کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
27 اکتوبر کی صبح، برازیلیا کے وقت کے مطابق تقریباً 11 بجے، مہلت ختم ہو گئی اور پاسپورٹ منسوخ کر دیے گئے۔ اس کے بعد برازیلی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ان کے ملک چھوڑنے کی خبریں سامنے آنے لگیں۔
امریکا روانگی اور داخلے کی اجازت

رائٹرز سے بات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ بولسونارو امریکا کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ بی بی سی برازیل اور بی بی سی منڈو سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق وہ امریکا پہنچ گئے ہیں اور فلوریڈا میں اپنے چھوٹے بھائی ایڈورڈو بولسونارو سے ملے ہیں۔ سی این این سے بات کرنے والے ایک ذریعے نے بھی منگل کی دوپہر تک ان کے امریکا پہنچنے کی تصدیق کی۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ وہ برازیل سے کس راستے سے نکلے اور امریکا میں کس ہوائی اڈے پر اترے۔ ابتدائی خبروں میں ارجنٹائن کے راستے سفر کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن ارجنٹائن کی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس ان کے ملک میں داخل ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ برازیل کی فیڈرل پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بولسونارو کسی عام امیگریشن چیک پوائنٹ سے گزرتے ہوئے ریکارڈ نہیں ہوئے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بولسونارو اور ان کے خاندان کو ویزے جاری کیے جائیں گے اور انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت ہوگی۔ سی این این کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے امریکا آنے کی منظوری دی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس کی منظوری دیں گے اور انتخاب کو غیر معمولی قرار دیا۔ یہ بیان ان کی ذاتی رائے کے طور پر سامنے آیا ہے، جبکہ برازیل کے انتخابی نتائج کو بولسونارو کی جماعت لبرل پارٹی نے پیر کے روز تسلیم کر لیا تھا۔
برازیل میں ردعمل اور آئندہ صورتحال
بولسونارو نے ابھی تک باضابطہ طور پر شکست تسلیم نہیں کی ہے۔ اتوار کے روز انہوں نے کہا تھا کہ وہ مبینہ بے قاعدگیوں کی بنیاد پر نتیجے کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب ان کی جماعت نے پیر کو لولا کی کامیابی کو تسلیم کر لیا۔
صدر لولا نے اپنے حریف کے ملک چھوڑنے پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور اس اقدام کو شرمناک قرار دیا۔ لولا کی ورکرز پارٹی کے ارکان نے سپریم کورٹ سے بولسونارو کی گرفتاری اور انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ مطالبہ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے سامنے آیا ہے، اس بارے میں عدالت کا کوئی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ صورتحال ماضی کے ایک واقعے کی یاد بھی دلاتی ہے۔ 2022 میں شکست کے بعد بولسونارو کے والد، سابق صدر جیئر بولسونارو بھی امریکا چلے گئے تھے۔ بعد میں وہ برازیل واپس آئے اور انہیں اپنے حامیوں کے دارالحکومت کی عمارتوں پر دھاوے کے بعد بغاوت کی سازش کے مقدمے میں 27 برس قید کی سزا سنائی گئی۔
فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ فلاویو بولسونارو امریکا میں کب تک قیام کریں گے، ان کے ساتھ کون گیا ہے اور ان کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی۔ برازیل میں ان کے خلاف تحقیقات اور ان کے سفر کے طریقہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات آنے کا امکان ہے۔
وطن نیوز کی مزید اردو خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔